معلومات

بوسائی (قدرتی سانحات سے بچاؤ)سے متعلق سوال و جواب

شدید بارشوں کے انتباہ کا پیمانہ اور انخلاء پر مفید معلومات -1
انتباہ کے درجے


این ایچ کے بڑی قدرتی آفت آنے کی صورت میں اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ جاپان میں جلد ہی بارشوں اور سمندری طوفانوں کا موسم شروع ہونے والا ہے۔ جاپان کا محکمۂ موسمیات سنگین نوعیت کی موسلادھار بارش ہونے سے پہلے انتباہ جاری کرتا ہے اور سفارشات پیش کرتا ہے، جن کی روشنی میں مقامی حکومتیں انخلاء کا حکم جاری کرتی ہیں۔ جاپان نے شدید بارشوں، سیلابوں اور مٹی کے تودے گرنے کے لیے پانچ درجات پر مشتمل انتباہ کا نیا پیمانہ 2019 سے استعمال کرنا شروع کیا ہے۔ اس نئے پیمانے کو متعارف کروانے کا مقصد رہائشیوں کے لیے انخلاء کی ضرورت کا تعین کرنے کو آسان بنانا ہے۔ اس پیمانے پر مئی 2021 میں نظرثانی کی گئی۔

محکمۂ موسمیات انگریزی، چینی اور ویت نامی جیسی غیر ملکی زبانوں میں بھی معلومات مہیا کرتا ہے۔

ہمارے اس تازہ ترین سلسلے میں انتباہ کے درجوں کو واضح کیا جائے گا اور انخلاء کرتے وقت چوکنا رہنے سے متعلق مفید مشورے دیے جائیں گے۔ اس سلسلے کی یہ پہلی قسط ہے۔ اگلی اقساط میں انتباہ کے ہر درجے سے لاحق متوقع خطرے کی سطح اور نشاندہی کردہ علاقوں میں رہنے والوں کے لیے حکام کی ہدایات پر روشنی ڈالی جائے گی۔

یہ معلومات 19 مئی تک کی ہیں۔



شدید بارشوں کے انتباہ کا پیمانہ اور انخلاء پر مفید معلومات -2
انتباہ کا درجہ 1 اور درجہ 2


این ایچ کے بڑی قدرتی آفت آنے کی صورت میں اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اس تازہ ترین سلسلے میں شدید بارشوں، سیلابوں اور مٹی کے تودے گرنے سے متعلق جاپان کے پانچ درجات پر مشتمل انتباہ کے پیمانے کی تفصیل دی جا رہی ہے۔ اس سلسلے کی آج دوسری قسط میں ہم انتباہ کے پہلے دو درجات اور انتباہ جاری ہونے کی صورت میں اٹھائے جانے والے اقدامات پر نظر دوڑائیں گے۔

پہلے درجے کا انتباہ جاری ہونے کی صورت میں متعلقہ علاقوں کے رہائشیوں کو تازہ ترین موسمی حالات سے باخبر رہنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ جاپان کا محکمۂ موسمیات متوقع انتباہ اور ہدایات سے متعلق معلومات اپنی ویب سائٹ پر جاری کرتا ہے۔ اس کا مقصد لوگوں کو اس امکان سے متعلق آگاہ رکھنا ہے کہ آئندہ چند روز کے اندر موسم کے بارے میں انتباہ جاری کیے جاسکتے ہیں۔ پہلے درجے کا انتباہ جاری ہونے کی صورت میں محکمۂ موسمیات کی ویب سائٹ دیکھنے یا دیگر اقدامات کے ذریعے موسم کی تازہ ترین معلومات حاصل کرتے رہیے۔

جاری کردہ انتباہ کا درجہ 2 ہونے کی صورت میں متعلقہ علاقے کے لوگوں کو انخلاء کرنے کا طریقہ اور پناہ حاصل کرنے کے مقام کا پتہ چلانے اور تصدیق کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔

عین ممکن ہے کہ محکمۂ موسمیات اس وقت تک شدید بارشوں اور سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار رہنے کی ہدایت جاری کر چکا ہو۔ نشاندہی کئے گئے علاقے میں ہونے کی صورت میں، گھر سے نکلنے اور پناہ حاصل کرنے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کو ذہن میں دہراتے ہوئے ان کی تصدیق کر لیجیے۔ علاقے میں ممکنہ آفات کے خطرات، پناہ گاہوں اور محفوظ راستوں کی نشاندہی کرنے والے نقشے ہیزرڈ میپ کا جائزہ لیتے ہوئے اپنے علاقے میں آنے والی ممکنہ قسم کی آفت کے ساتھ ساتھ گھر کے نزدیک ترین واقع پناہ گاہ کا پتہ اور وہاں پہنچنے کے راستے کی بھی تصدیق کیجیے۔

یہ معلومات 20 مئی تک کی ہیں۔



شدید بارشوں کے انتباہ کا پیمانہ اور انخلاء پر مفید معلومات -3
انتباہ کا درجہ 3 اور درجہ 4


این ایچ کے بڑی قدرتی آفت آنے کی صورت میں اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ شدید بارشوں، سیلابوں اور مٹی کے تودے گرنے سے متعلق جاپان کے پانچ درجات پر مشتمل انتباہ کے پیمانے کے بارے میں موجودہ سلسلے کی آج تیسری قسط میں انتباہ کے درجہ 3 اور درجہ 4 پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔

انتباہ کا درجہ تین قرار دیے جانے کی صورت میں معمر اور جسمانی معذور افراد کو گھر سے نکل کر کسی محفوظ مقام پر پناہ لینے کا عمل شروع کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

معمر افراد اور دیگر رہائشیوں کے لیے مقامی حکومتیں ’’انخلاء کا انتباہ‘‘ جاری کرتی ہیں۔ ان حالات میں امکان ہے کہ محکمۂ موسمیات شدید بارشوں اور سیلاب آنے کے خطرے سے خبردار کر چکا ہو اور حکام نے دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہونے کا انتباہ جاری کر دیا ہو۔ ایسی صورتحال میں معمر افراد اور جسمانی طور پر معذور افراد کو گھر سے انخلاء کرتے ہوئے کسی پناہ گاہ کا رخ کرنا چاہیے۔ دیگر افراد کو پناہ گاہوں کے مقام کی تصدیق کرنی چاہیے اور ہمراہ لے جائے جانے والی اشیاء کی پیکنگ شروع کرنی چاہیے۔ خطرہ محسوس ہونے کی صورت میں انتباہ کے اجراء کے بغیر ہی رضاکارانہ بنیادوں پر خود کسی پناہ گاہ میں پناہ حاصل کرنے کے لیے خطرے کی زد میں آئی ہوئی جگہ سے نکل جانا چاہیے۔

انتباہ کا درجہ چار ہونے کا مطلب یہ ہے کہ خطرے کی زد میں آنے والے علاقوں کے تمام افراد کو انخلاء کرنا چاہیے۔ مقامی حکومتیں انخلاء کا حکم جاری کرتی ہیں۔ درجہ چار کا انتباہ جاری ہونے کا مطلب یہ ہے کہ شدید بارشوں کے باعث مٹی کے تودے گرنے کا خطرہ پہلے سے بڑھ گیا ہے۔ غالب امکان ہے کہ حکام نے مٹی کے تودے پھسلنے کے خطرے سے پہلے ہی خبردار کر دیا ہو اور ساتھ ہی دریاؤں میں پانی کی سطح بڑھنے کے ساتھ ساتھ سیلاب آنے کے خطرے کا انتباہ بھی جاری کر دیا ہو۔ خطرناک مقامات پر موجود صرف معمر ہی نہیں بلکہ تمام افراد کو اپنی حفاظت کے لیے محفوظ مقامات پر منتقل ہو جانا چاہیے۔ پناہ حاصل کرنے کے لیے محفوظ مقام صرف پناہ گاہیں ہی نہیں ہیں۔ اردگرد کے علاقے میں کوئی بھی مضبوط تعمیر کی گئی عمارت آپ کو محفوظ رکھ سکتی ہے۔ پناہ گاہوں، محفوظ راستوں اور خطرناک مقامات کی نشاندہی کرنے والے مقامی حکومتوں کے تیار کردہ ہیزرڈ میپ کی مدد سے ایسے مقامات کی تصدیق کیجیے۔




شدید بارشوں کے انتباہ کا پیمانہ اور انخلاء پر مفید معلومات -4
انتباہ کی سطح 5 کا انتظار نہ کیجیے


این ایچ کے بڑی قدرتی آفت آنے کی صورت میں اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ شدید بارشوں، سیلابوں اور مٹی کے تودے گرنے سے متعلق جاپان کے پانچ درجات پر مشتمل انتباہ کے پیمانے کے بارے میں موجودہ سلسلے کی آج تیسری قسط میں انتباہ کے حتمی درجے 5 پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔

سطح 5 کا انتباہ رہائشیوں کیلئے فوری نوعیت کی گزارش ہے کہ وہ خود اپنی زندگی کو بچانے کیلئے جو بھی ضروری اقدام ممکن ہو وہ کریں۔

اس انتباہ میں مقامی حکومتیں لوگوں کو حکم دیتی ہیں کہ وہ فوری طور پر اپنے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ اس امر کا غالب امکان ہے کہ کوئی قدرتی آفت سرپر منڈلا رہی ہے یا پھر پہلے ہی رونما ہو چکی ہے۔ زیادہ امکان یہ ہے کہ حکام ایسی جگہوں کے بارے میں معلومات جاری کر چکے ہوں گے جہاں دریاؤں کے پشتے ٹوٹ چکے ہوں۔ محکمۂ موسمیات ممکنہ طور پر زیادہ سے زیادہ سطح کا ہنگامی انتباہ جاری کر چکا ہو۔ ہو سکتا ہے کہ کسی پناہ گاہ کا رخ کرنے کا وقت نکل چکا ہو۔

ہمیں اس بات کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ہوسکتا ہے مقامی حکومتوں کے ’’حفاظت یقینی بنائیں ‘‘احکامات بروقت نہ آ سکیں۔ یہ خطرہ موجود ہے کہ ہو سکتا ہے کہ آپ ایسی صورتحال میں اپنے تحفظ کو یقینی نہ بنا سکیں۔ جب سطح 4 کا انتباہ جاری ہو جائے تو سطح 5 کا انتباہ جاری ہونے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے اور انخلاء کر لینا چاہیے۔ سطح 5 کے انتباہ کو اُن لوگوں کیلئے یہ اعلان سمجھا جانا چاہیے جو اُس وقت تک انخلاء کرنے میں ناکام ہو گئے ہوں کہ وہ اپنی زندگیاں بچانے کیلئے دوسرا بہترین اقدام کریں۔ اس خام خیالی میں نہ رہیں کہ چونکہ آخری انتباہ ابھی تک نہیں آیا ہے تو اس لیے آپ کے پاس ابھی بھی وقت ہے۔ جب انخلاء کا حکم جاری کر دیا جائے تو پناہ گاہ میں جائیے۔

یہ معلومات 24 مئی تک کی ہیں۔




شدید بارشوں کے انتباہ کا پیمانہ اور انخلاء پر مفید معلومات -5
انخلاء کرنا مشکل ہونے کی صورت میں کیا کرنا چاہیے؟


این ایچ کے بڑی قدرتی آفت آنے کی صورت میں اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ شدید بارشوں، سیلابوں اور مٹی کے تودے گرنے کے لیے جاپان کے پانچ درجات پر مشتمل پیمانے سے متعلق ہمارے اس سلسلے میں انخلاء کرنا مشکل ہونے کی صورت میں دستیاب ترجیحات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔

کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی شدید بارشوں کے فوراً بعد صورتحال یکلخت بدل سکتی ہے۔ ایسی صورت میں، معمر افراد اور جسمانی طور پرمعذور افراد کے انخلاء کے لیے معلومات کے ساتھ ساتھ ان کے فوری انخلاء کی ہدایات بروقت جاری نہ ہونے کا امکان ہو سکتا ہے اور محلے یا اردگرد کے علاقے سے سیلابی پانی کا ریلہ گزرنے کی صورت میں دور واقع کسی پناہ گاہ تک پہنچنے کے لیے نقل مکانی مشکل ہو سکتی ہے۔ ان حالات میں کسی نزدیکی مقام یا عمارت میں پناہ حاصل کی جا سکتی ہے۔ باہر جانے کا خطرہ مول نہ لے سکنے کی صورت میں، گھر کی اوپری منازل میں، یا پھر نشیبی چٹان جیسے ممکنہ خطرات کی زد میں آنے والے حصے کی مخالف جانب گھر کے حصے میں پناہ حاصل کی جا سکتی ہے۔

پہاڑوں میں چھوٹے اور درمیانے سائز کے دریاؤں کا پانی کناروں سے باہر آ سکتا ہے۔ دریاؤں سے علاقوں کے درمیان فاصلے اور دریاؤں کے مقابلے میں علاقوں کی بلندی کے اعتبار سے ہر علاقے کو پہنچنے والے نقصان کی شدت مختلف ہو سکتی ہے۔ دریا کے کنارے آباد علاقوں یا سیلاب آنے کی صورت میں مکمل زیر آب آنے والے علاقوں میں گھروں کے منہدم ہونے یا سیلابی ریلے میں بہہ جانے کے انتہائی خطرے سے دوچار مقامات بھی ہیں۔ حکومت اور دیگر حکام ایسے مقامات کو سیلاب کے ممکنہ خطرے سے دوچار یا عمارات منہدم ہونے کے خطرے سے دوچار مقامات قرار دیتے ہیں۔ ایسے مقامات پر موجود ہونے کی صورت میں، جان بچانے کے لیے گھر کی دوسری منزل پر پناہ لینا کافی نہیں ہو گا۔ ان حالات میں زیادہ محفوظ مقام تلاش کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

یہ معلومات یکم جون تک کی ہیں۔




شدید بارشوں کے انتباہ کا پیمانہ اور انخلاء پر مفید معلومات -6
’’انخلاء کے بٹن‘‘ کی تیاری


این ایچ کے بڑی قدرتی آفت آنے کی صورت میں اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ شدید بارشوں، سیلابوں اور مٹی کے تودے گرنے کے لیے جاپان کے پانچ درجات پر مشتمل پیمانے سے متعلق ہمارے اس سلسلے میں لوگوں کی جانب سے ’’انخلاء کا بٹن‘‘ خود تیار کرنے کی ضرورت پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔

سانحات سے متعلقہ ادارے اور مقامی حکومتیں مختلف اقسام کے انتباہ جاری کرتی ہیں۔ قدرتی آفت آنے کا فوری خطرہ درپیش ہونے کی صورت میں مقامی حکام ہر ایک فرد کی مدد کو نہیں پہنچ سکتے۔ لہٰذا یہ انتہائی ضروری ہے کہ انخلاء کرنے کے لیے قدم اٹھانے کے وقت کا پیشگی تعین کرنے کی غرض سے ’’انخلاء کا اپنا بٹن‘‘ تیار کیا جائے۔ دوسرے الفاظ میں ان حالات کا پہلے سے تعین کر کے رکھیے، جن میں آپ کو انخلاء کے لیے قدم اٹھانا ہو گا۔

لوگوں کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ اپنے اپنے علاقوں میں قدرتی آفات آنے کی صورت میں خود کو درپیش خطرات سے آگاہ رکھیں اور آفت آنے کا انتہائی خطرہ لاحق ہونے پر فوری انخلاء سے متعلق سیکھیں۔

حالات بدترین صورت اختیار کرنے سے پہلے فوری قدم اٹھانا انتہائی ضروری ہے۔ شدید بارشوں کے باعث دریاؤں کی سطح بلند ہونے کی صورت میں سیلابی پانی کا ریلہ گاڑی کو آسانی سے بہا کر لے جا سکتا ہے۔ مقامی انتہائی خطرے سے دوچار علاقوں میں رہنے والوں کو حکومت کی جانب سے انخلاء کی ہدایت جاری ہونے کی صورت میں فوری انخلاء شروع کر دینا چاہیے۔

نقل و حرکت میں معمول سے زیادہ وقت لینے والے معمر اور جسمانی معذور افراد یا اسی طرح کے دیگر افراد کو انتباہ کا درجہ تین جاری ہونے پر انخلاء کرنا شروع کر دینا چاہیے۔

اگلی قسط میں انخلاء کرتے وقت مخصوص احتیاطی تدابیر پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

یہ معلومات 2 جون تک کی ہیں۔




شدید بارشوں کے انتباہ کا پیمانہ اور انخلاء پر مفید معلومات -7
پیدل انخلاء


این ایچ کے بڑی قدرتی آفت آنے کی صورت میں اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ شدید بارشوں، سیلابوں اور مٹی کے تودے گرنے سے متعلق جاپان کے پانچ درجات پر مشتمل پیمانے کے بارے میں ہمارے اس سلسلے میں انخلاء کرتے وقت مخصوص احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ آج پیدل انخلاء کرنے کی صورت میں مفید معلومات مہیا کی جا رہی ہیں۔

مشورہ دیا جاتا ہے کہ انخلاء کے لیے چلنے پھرنے میں آسانی مہیا کرنے والے پتلون جیسے کپڑے پہنیں۔ زخمی ہونے سے محفوظ رہنے کے لیے گرمیوں میں بھی لمبی آستین والے کپڑوں اور پیروں تک لمبی پتلون کا انتخاب کریں۔ پیروں میں پہننے کے لیے ایسے آرام دہ اسنیکر یا جوگر مناسب ہوں گے، جن کے آپ عادی ہوں۔ پانی اندر جانے کی صورت میں بوٹ بھاری ہو جائیں گے اور آپ کے لیے قدم اٹھانا مشکل ہو جائے گا، اس لیے بوٹ نہ پہننے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ قینچی چپل وغیرہ پہننے سے گریز کیا جائے کیونکہ یہ آسانی سے اتر سکتی ہیں۔

ہنگامی حالات میں ساتھ لے جانے کے لیے تھیلا تیار رکھیں۔ اس تھیلے میں محض اشد ضروری اشیاء رکھیں تاکہ ہلکا پھلکا رہے اور اٹھانے میں آسانی ہو۔ پشت پر لٹکا سکنے والا تھیلا استعمال کریں تاکہ آپ کے ہاتھوں میں کچھ نہ ہو اور آپ گرنے سے محفوظ رہیں۔ حفاظت کی خاطر چھتری استعمال کرنے کے بجائے برساتی پہننے کا بھی مشورہ دیا جاتا ہے۔

یہ معلومات 3 جون تک کی ہیں۔



شدید بارشوں کے انتباہ کا پیمانہ اور انخلاء پر مفید معلومات -8
اکیلے کچھ کرنے سے گریز کریں


این ایچ کے بڑی قدرتی آفت آنے کی صورت میں اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ شدید بارشوں، سیلابوں اور مٹی کے تودے گرنے سے متعلق جاپان کے پانچ درجات پر مشتمل پیمانے کے بارے میں ہمارے اس سلسلے میں آج ہم ان نکات پر توجہ مرکوز کریں گے جن کا انخلاء کے وقت خیال رکھا جانا ضروری ہے۔ آج بھی ہم پیدل انخلاء سے متعلق مفید معلومات فراہم کریں گے اور اس بات پر زور دیں گے کہ تنہا کوئی اقدام اٹھانے سے گریز کریں۔

اکیلے انخلاء سے گریز کریں اور انخلاء جس قدر ممکن ہوسکے دو یا اس سے زائد افراد کے گروپ کی صورت میں کریں۔ سیلاب والے علاقوں کی جانب نہ جائیں۔ جب پانی کی سطح 50 سینٹی میٹر تک یا گھٹنوں سے اوپر تک آ جاتی ہے تو پانی کے دباؤ کے باعث بالغ مردوں کے لیے بھی چلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اگر پانی بہہ رہا ہو تو کم گہرے پانی میں بھی کسی بھی شخص کا توازن خراب ہو سکتا ہے اور وہ پانی کے ساتھ بہہ سکتا ہے۔

اگر کوئی سڑک زیر آب آ گئی ہو تو پانی کے باعث اس کی سطح نظر نہ آنے سے کوئی بھی شخص سڑک کے اونچے نیچے حصوں میں پھنس کر گر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کسی کھلے ہوئے گٹر یا نالے وغیرہ میں بھی گر سکتا ہے۔

اگر آپ کے پاس سیلاب زدہ علاقے سے گزرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہ ہو تو زیادہ گہرے پانی یا بہتے پانی سے بچیں۔ قدم آگے بڑھانے سے قبل کسی چھتری یا لمبی چھڑی سے اس بات کی جانچ کر لیں کہ آگے بڑھنا ٹھیک ہے یا نہیں۔

یہ معلومات 6 جون تک کی ہیں۔



شدید بارشوں کے انتباہ کا پیمانہ اور انخلاء پر مفید معلومات -9
گاڑی بچ نکلنے کا ہمیشہ محفوظ ترین طریقہ نہیں ہے


این ایچ کے بڑی قدرتی آفت آنے کی صورت میں اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ شدید بارشوں، سیلابوں اور مٹی کے تودے گرنے سے متعلق جاپان کے پانچ درجات پر مشتمل پیمانے کے بارے میں معلومات کے ساتھ ساتھ ہمارے اس سلسلے میں انخلاء کرتے وقت مخصوص احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ آج ہم گاڑی کے ذریعے انخلاء پر مفید معلومات فراہم کررہے ہیں ۔

یہ قیاس نہ کیجیے کہ آپ گاڑی کے ذریعے ہمیشہ محفوظ انداز میں انخلاء کرسکتے ہیں۔
اکتوبر 2019ء میں ہاگی بِیس نامی سمندری طوفانِ بادوباراں کے دوران گھر سے باہر ہلاک ہونے والوں کی 40 فیصد تعداد گاڑی میں انخلاء کرتے وقت اپنی جانیں کھو بیٹھی تھی۔ بعض لوگوں کی گاڑیاں ڈرائیونگ کرتے ہوئے سیلاب میں بہہ گئیں۔ دیگر لوگ اپنی گاڑی کسی زیرِ آب سڑک پر گڑھے میں گرنے کے بعد جاں بحق ہوئے۔

ماہرین نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ خصوصاً جب علاقہ شدید بارش اور تیز ہواؤں سے پہلے ہی متاثر ہو رہا ہو تو جلد بازی میں یہ سوچ کر گھر یا کام پر جانے کی کوشش نہ کریں کہ جب تک گاڑی استعمال کی جارہی ہے تو ایسا کرنا محفوظ ہو گا۔

دریاؤں یا چاول کے کھیتوں کے کنارے بنی سڑکوں پر گاڑی چلانے سے گریز کرنا چاہیے۔جب بارشوں کے باعث دریاؤں میں پانی کی سطح بڑھنے سے یا چاول کے کھیتوں کے کناروں سے پانی باہر نکلا ہو تو سڑک اور پانی کے درمیان حد بندی کا پتہ نہیں چلتا ہے۔کوئی بھی شخص اپنی گاڑی دریا یا سیلابی کھیتوں میں بہ آسانی گرا سکتا ہے۔ماضی کے طوفانِ بادوباراں اور موسلا دھار بارشوں میں کچھ لوگ اس طرح ہلاک ہو چکے ہیں۔سڑک کو اچھی طرح جاننے کے باوجود موسلا دھار بارش کی صورت میں اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ جس سڑک پر جارہے ہیں وہ محفوظ ہے۔

یہ معلومات 7 جون تک کی ہیں۔



شدید بارشوں کے انتباہ کا پیمانہ اور انخلاء پر مفید معلومات -10
سیلابی ریلے میں گاڑی بہہ جانے کا امکان


این ایچ کے بڑی قدرتی آفت آنے کی صورت میں اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ شدید بارشوں، سیلابوں اور مٹی کے تودے گرنے کے بارے میں جاپان کے پانچ درجات پر مشتمل پیمانے سے متعلق ہمارے اس سلسلے میں انخلاء کے دوران ملحوظ خاطر رکھی جانے والی مخصوص احتیاطی تدابیر پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ آج گاڑی کے ذریعے انخلاء پر بات جاری رکھتے ہوئے اس امر پر توجہ مرکوز کی جائے گی کہ سیلابی پانی کے ریلے میں گاڑیاں بہ آسانی بہہ کر دور جاسکتی ہیں۔

سیلاب سے زیر آب آنے والی سڑکوں پر گاڑی چلانا خطرناک عمل ہے۔ سڑکوں پر سیلابی پانی کی سطح تشویشناک حد تک زیادہ محسوس نہ ہونے کے باوجود پانی کافی گہرا ہو سکتا ہے۔ پانی میں گاڑی کا انجن بند ہو جانے یا گاڑی بہہ جانے کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔ سیلابی پانی موجود ہونے کی صورت میں سڑک نظر نہیں آتی اور نظروں سے اوجھل سڑک کی سطح پر بنے چھوٹے گڑھوں، سڑک کے کنارے نکاسیٔ آب اور آبپاشی کے لیے بنے نالوں میں گاڑی گرنے یا پھنسنے کا خطرہ ہوتا ہے۔

ان حالات میں زیر آب سڑکوں پر جانے سے گریز کیا جائے اور متبادل راستے کا انتخاب کیا جائے۔ ناگزیر حالات میں زیر آب سڑک پر گاڑی چلانے کی صورت میں رفتار نہایت کم رکھی جائے اور آگے جانے والی گاڑی سے تسلی بخش فاصلہ برقرار رکھا جائے۔ وجہ یہ ہے کہ اگلی گاڑی کے چھینٹوں سے سامنے کا سارا منظر دھندلا سکتا ہے اور اگلی گاڑی کے اچانک بریک لگانے کی صورت میں آپ کی گاڑی اس سے ٹکرا سکتی ہے۔ نیز، تیز رفتاری سے گاڑی چلانے پر پانی میں بڑی لہریں پیدا ہوں گے، جو گاڑی کے انجن تک پہنچ کر نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

زیر آب سڑکوں پر پانی کی کی سطح 30 سینٹی میٹر اونچی ہونے کی صورت میں گاڑی کا انجن بند ہو جائے گا۔ پانی کی سطح 50 سینٹی میڑ یا اس سے زیادہ بلند ہونے کی صورت میں گاڑی کے تیرنا شروع کرنے اور پانی کے ریلے کی لپیٹ میں آنے کا امکان ہے۔ مسافر گاڑی ہونے کی صورت میں سڑک پر پانی کی سطح گاڑی کے دروازوں یا نچلی تہہ سے نیچی ہونی چاہیے۔ لیکن یہ بھی خیال رہے کہ اتھلے یا کم گہرے پانی میں بھی، دریا کے پشتوں کے اوپر سے بہنے والے پانی کی طرح، پانی کا تیز بہاؤ گاڑی کو اپنے ساتھ بہا کر لے جا سکتا ہے۔

یہ معلومات 8 جون تک کی ہیں۔



شدید بارشوں سے خبردار کرنے کا پیمانہ اور انخلاء کے اقدامات -11
گاڑی کے ذریعے انڈرپاس سے گزرتے ہوئے محتاط رہیں


این ایچ کے بڑی قدرتی آفت آنے کی صورت میں اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ شدید بارشوں، سیلابوں اور مٹی کے تودے گرنے کے بارے میں جاپان کے پانچ درجات پر مشتمل پیمانے سے متعلق ہمارے اس سلسلے میں انخلاء کے دوران ملحوظ خاطر رکھی جانے والی مخصوص احتیاطی تدابیر پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ آج ہم ان نکات پر توجہ مرکوز کریں گے، جن کا انخلاء کے وقت خیال رکھا جانا ضروری ہے۔ آج ہمارے اس سلسلے کی آخری قسط میں آپ کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ گاڑی سے انخلاء کی صورت میں انڈرپاس یعنی زیر راستے سے گزرتے وقت محتاط رہیے۔

ریلوے لائن یا دیگر سڑکوں کے نیچے سے گزرنے والے انڈرپاس میں خصوصاً پانی بھرجانے کا خدشہ موجود ہوتا ہے۔ چونکہ یہ ارد گرد کی سطحِ زمین سے نیچے ہوتے ہیں اس لیے بارش کا پانی وہاں جلد جمع ہو جاتا ہے، ماضی میں اندر پانی بھر جانے سے بے خبر ڈرائیوروں کے انڈرپاس میں چلے جانے کے باعث جان لیوا حادثات ہو چکے ہیں۔ چنانچہ انخلاء کے وقت انڈر پاس استعمال نہ کرنا بہتر ہوگا۔ اس کی بجائے متبادل راستہ اختیار کیجیے۔ اگر انڈرپاس استعمال کیے بغیر چارہ نہ ہو تو گاڑی آہستہ چلائیے اور پانی کی سطح پر نظر رکھیے۔

گاڑی زیرِ آب آجانے کی صورت میں باہر سے پڑنے والے پانی کے دباؤ کے باعث اندر سے دروازے کھولنا مشکل ہو سکتا ہے۔ دروازہ جتنا بڑا ہوگا اس پر دباؤ بھی اتنا ہی زیادہ ہوگا۔ چنانچہ بڑے دروازے یا سلائیڈنگ دروازے والی گاڑی کے پانی میں ڈوب جانے کی صورت میں اندر سے نکلنا زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔

چنانچہ بہتر یہ ہوگا کہ ہنگامی صورتحال میں گاڑی کی کھڑکی کا شیشہ توڑنے کے لیے کوئی اوزار ہمیشہ گاڑی میں رکھا جائے۔ اگر آپ کے پاس ایسا کوئی اوزار نہیں ہے تو اپنی گاڑی کی نشست کا ہیڈ ریسٹ نکالیے، اس میں لگی ہوئی دو دھاتی سلاخوں میں سے ایک کو کھڑکی کے شیشے اور دروازے کے فریم کے درمیان پھنسا کر سلاخ کو اپنی جانب کھینچ کر کھڑکی کا شیشہ توڑیے۔ یاد رکھیے کہ بدترین صورتحال میں بھی گاڑی کے اندر کافی پانی بھر جانے اور گاڑی کے اندر اور باہر پانی کی سطح تقریباً یکساں ہوجانے پر دروازہ کھولا جا سکتا ہے۔

یہ معلومات 9 جون تک کی ہیں۔



شہری علاقوں میں سیلاب سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر
1- دریاؤں سے فوراً دور چلے جائیے!


بڑی قدرتی آفت آنے کی صورت میں اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ سیلاب کے خطرے سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر پر ایک بار پھر نظر دوڑائی جا رہی ہے، کیونکہ جاپان میں موسم برسات کا آغاز ہو رہا ہے۔ کنکریٹ سے بنی عمارات اور پکی سڑکوں کی وجہ سے شہری علاقے بارانی پانی کی بڑی مقدار جذب کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ ایک گھنٹے میں 50 ملی میٹر بارش ہونے کی صورت میں نکاسئ آب کا نظام ناکافی ثابت ہو سکتا ہے اور سیلاب آ سکتا ہے۔ آج سے شروع ہونے والے ہمارے اس نئے سلسلے میں شہری علاقوں میں سیلاب سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اور طریقوں پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔

شہروں سے گزرنے والے دریاؤں کی چوڑائی کم ہوتی ہے اور ان کی تہہ میں اکثر کنکریٹ بھی بچھایا گیا ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے بارش ہونے کی صورت میں دریا کی سطح تیزی سے بلند ہو جاتی ہے۔

جولائی 2008 میں کوبے شہر سے گزرنے والے ایک دریا کی سطح محض 10 منٹ میں 130 سینٹی میٹر بلند ہو گئی تھی، جس کے باعث دریا کے کنارے کھیلنے والے 3 بچوں سمیت 5 افراد دریا کے تیز بہاؤ کی لپیٹ میں آ کر موت کے منہ میں جا پہنچے تھے۔ 50 ملی میٹر فی گھنٹہ سے زائد ہونے والی موسلا دھار بارش چند گھنٹے تک برسنے کے نتیجے میں دریاؤں کا پانی کناروں سے باہر آنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

بالائی علاقوں میں شدید بارشوں کا پانی دریا میں داخل ہونے سے نشیبی علاقوں میں زیادہ بارش نہ ہونے کی صورت میں بھی ان علاقوں سے گزرنے والے دریاؤں کی سطح اچانک بلند ہو سکتی ہے۔ لہٰذا ایسی صورتحال میں احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے چھوٹے دریاؤں یا ندی نالوں سے فوراً دور ہٹ جائیے۔

یہ معلومات 15 جون تک کی ہیں۔



2- نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو جانے اور مین ہولز سے خبردار رہیے

این ایچ کے، قدرتی سانحات رونما ہونے کی صورت میں کیے جانے والے بچاؤ کے اقدامات سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ ہم شہری علاقوں میں سیلاب سے بچاؤ کے طریقوں کے بارے میں بتا رہے ہیں۔ آج ہم ارد گرد کے مقابلے میں نشیب میں واقع علاقوں کے لیے احتیاطی تدابیر کے بارے میں بتا رہے ہیں۔

جب بارش کی مقدار نکاسی کی گنجائش سے بڑھ جاتی ہے تو پانی کے دباؤ سے نکاسی کے پائپوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے یا پھر مین ہولز کے ڈھکن کھل سکتے ہیں۔ گٹروں میں جانے والے پانی کی مقدار بھی بڑھ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ارد گرد کے مقابلے میں نشیب میں واقع علاقوں میں یا تنگ سڑکوں پر پانی جمع ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات یہ پانی کسی دریا کے دھارے کی مانند بہاؤ کی صورت اختیار کر سکتا ہے، جس میں کوئی بھی شخص بہہ سکتا ہے۔ آپ کو جمع شدہ پانی سے گزرنے سے ممکنہ حد تک بچنا چاہیے۔ اور اگر اس سے گزرے بناء کوئی چارہ نہ ہو تو دو یا زائد افراد کے گروپ کی صورت میں حرکت کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضرورئ ہے کہ آپ چھتری یا چھڑی کی مدد سے پانی کے نیچے کی زمین ٹٹولتے ہوئے آہستہ آہستہ چلیں۔

اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ بعض شہری علاقوں میں پہاڑوں کو کاٹ کر رہائشی علاقے بنائے گئے ہیں۔ ان علاقوں میں مٹی کے تودے گرنے کا خطرہ بھی موجود ہوتا ہے۔ چنانچہ ہم تجویز کریں گے کہ آپ اپنے علاقے کے خطرے کے نقشوں کی پیشگی جانچ کرلیں۔

یہ معلومات 16 جون تک کی ہیں۔



3- زمین سے اوپر رہیے!

این ایچ کے بڑی قدرتی آفت آنے کی صورت میں اٹھائے جانے والے اقدامات کے بارے میں سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ اس حالیہ سلسلے میں شہری علاقوں میں سیلاب آنے کی صورت میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور محفوظ رہنے کے طریقوں پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ آج کا اہم مشورہ یہ ہے کہ تہ خانے یا زیر زمین مقام پر موجود ہونے کی صورت میں سطحِ زمین کے اوپر آ جائیے۔

موسلا دھار بارشوں کی صورت میں تہ خانوں یا زیر زمین خریداری مراکز یا گاڑیوں وغیرہ کی پارکنگ کے لیے بنائے گئے مقامات پر پلک جھپکتے میں بڑی مقدار میں پانی داخل ہو سکتا ہے۔ زیر زمین موجود ہونے کی صورت میں زمین کے اوپر کی صورتحال کا اکثر اندازہ نہیں ہو پاتا۔ اس کا مطلب ہے کہ شدید بارش ہونے یا سیلاب آنے کی صورت میں امکان ہے کہ آپ بروقت باہر نہ نکل سکیں۔ زیر زمین مقامات میں پانی داخل ہونا شروع ہو جائے تو پانی کے بہاؤ کے مخالف سیڑھیاں اوپر چڑھنا انتہائی دشوار گزار ہو سکتا ہے۔ سیلاب آنے سے بجلی کی فراہمی منقطع ہو سکتی ہے اور لفٹ چلنا بند ہو سکتی ہے۔ بجلی بند ہونے کے باعث تاریکی طاری ہونے سے افراتفری بھی مچ سکتی ہے۔

مثال کے طور پر تہ خانے سے باہر نکلنے والے دروازے کے سامنے 50 سینٹی میٹر گہرا پانی جمع ہونے کی صورت میں دروازے پر پانی کا مجموعی دباؤ 100 کلوگرام تک پہنچ سکتا ہے۔ باہر 10 سینٹی میٹر کے قریب پانی ہونے کی صورت میں بھی بچوں اور معمر افراد کے لیے دروازہ کھولنا کافی مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔ 30 سینٹی میٹر کے لگ بھگ گہرا پانی باہر کھڑا ہونے پر بالغ افراد کے لیے بھی دروازہ کھولنا مشکل ہوتا ہے۔

ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ شدید بارشوں کی صورت میں تہ خانوں اور زیر زمین واقع مقامات سے باہر آ جائیے۔ ناگزیر حالات میں زیر زمین موجود رہنے کی صورت میں، موسم کی تازہ ترین صورتحال اور مقامی حکومت سے جاری ہونے والے خطرے کے انتباہ سے باخبر رہیے اور سیلاب آنے کا خطرہ لاحق ہونے پر سطحِ زمین کے اوپر آ جائیے۔

یہ معلومات 17 جون تک کی ہیں۔




مٹی کے تودے گرنا ۔ احتیاطی تدابیر اور انخلاء کے بارے میں رہنمائی
مٹی کے تودے گرنے کے انتباہ کے بعد فوری انخلاء ضروری


این ایچ کے، قدرتی سانحات رونما ہونے کی صورت میں کیے جانے والے بچاؤ کے اقدامات سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ مٹی کے تودے گرنے کے بعد انخلاء ممکن نہیں رہے گا۔ لوگوں کے لیے اپنی جان بچانے کا بہترین طریقہ ایسے خطرے والے علاقے سے جلد از جلد نکل جانا ہے۔ اس سلسلے میں ہم مٹی کے تودے گرنے اور انخلاء کے متعلق کلیدی معلومات مہیا کریں گے۔

مٹی کے تودے گرنے کا خطرہ بڑھنے کی صورت میں محکمۂ موسمیات اور پریفیکچر کی حکومت مشترکہ طور پر انتباہ جاری کرتے ہیں۔ جن جگہوں پر اس خطرے کا سامنا ہو، وہاں رہنے والے افراد کو انتباہ جاری ہونے کے بعد مقامی حکومت کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے انخلاء کے اقدامات اٹھانے چاہیئں۔

مٹی کے تودے، کسی انتباہ یا انخلاء کی ہدایات نہ ہونے کی صورت میں بھی اچانک گر سکتے ہیں۔

مٹی کے تودے گرنے کی کچھ انتباہی نشانیاں یہ ہیں۔
ڈھلوان پر چھوٹے پتھروں کا لڑھکتے ہوئے گرنا۔
ڈھلوان میں دراڑیں پڑنا۔
ڈھلوان کے کسی مقام سے اچانک چشمے کی مانند پانی ابل پڑنا۔
دریاؤں کا اچانک خشک ہو جانا۔
پہاڑی ارتعاش یا گڑگڑاہٹ کی آوازیں آنا۔

ایسا غیر فطری مظہر یہ اشارہ ہوتا ہے کہ مٹی کے تودے کسی بھی وقت گر سکتے ہیں اور علاقہ خطرناک ہے۔ ایسی صورت میں لوگوں کو فوری طور پر چٹان یا پہاڑی ڈھلوان سے دور چلا جانا چاہیے، اور اپنا تحفظ یقینی بنانا چاہیے۔ انہیں کسی بھی صورت میں ایسے غیر فطری مظاہر کی تصدیق کے لیے ڈھلوان کے قریب نہیں جانا چاہیے، کیونکہ ایسا کرنا انتہائی خطرناک ہے۔

یہ معلومات 20 جون تک کی ہیں۔




2- دوسری منزل پر انخلاء کرنا آخری تدبیری اقدام ہونا چاہیے

این ایچ کے، قدرتی سانحات رونما ہونے کی صورت میں کیے جانے والے بچاؤ کے اقدامات سے متعلق سامعین کے سوالات کے جواب دے رہا ہے۔ مٹی کے تودے گرنے کے بعد انخلاء ممکن نہیں رہے گا۔ لوگوں کے لیے اپنی جان بچانے کا بہترین طریقہ ایسے خطرے والے علاقے سے جلد از جلد نکل جانا ہے۔ اپنے اس سلسلے میں ہم آپ کو مٹی کے تودے گرنے اور انخلاء سے متعلق کلیدی معلومات فراہم کریں گے۔

جب کسی مقررہ پناہ گاہ کی طرف انخلاء کرنا بہت زیادہ خطرناک لگے تو دوسری یا زیادہ بلند منزل پر واقع کمرے یا ایسی عمارت میں منتقل ہوجانا آخری تدبیری اقدام کے طور پر زندگیاں بچا سکتا ہے جو پہاڑوں یا ڈھلوانوں سے انتہائی دور فاصلے پر ہوں۔

اہم ترین بات یہ ہے کہ لوگ صورتحال کے اس حد تک خراب ہونے سے پہلے محفوظ عمارات اور مقامات پر انخلاء کرلیں۔

لوگوں کو چاہیے کہ وہ خطرے کی نشاندہی کرنے والا نقشہ دیکھیں اور بلدیاتی اداروں کی جانب سے جاریکردہ مٹی کے تودے گرنے کے انتباہ اور انخلاء کی معلومات کے ساتھ ساتھ اردگرد کے علاقوں میں صورتحال کا بھی جائزہ لے لیں۔

جو افراد اونچی چٹان، پہاڑی ڈھلوان یا دریا وغیرہ کے دھارے کے قریب ہوں انہیں چاہیے کہ جب موسلا دھار بارش متوقع ہو تو انخلاء کرنے پر غور کریں۔

مغربی جاپان میں 2018ء میں برسنے والی طوفانی بارش کے دوران مٹی کے تودے گرنے سے ہلاکتوں کی اطلاع دینے والے تقریباً 90 فیصد علاقوں کو پہلے ہی مٹی کے تودے گرنے سے ہوشیار رہنے کا زون یا دیگر خطرات والے علاقے قرار دیا جا چکا تھا۔

نہ صرف ڈھلوانوں اور اُونچی چٹانوں کے قریب واقع علاقوں بلکہ ان سے نسبتاً دور علاقوں کو بھی مٹی کے تودے گرنے سے ہوشیار رہنے کا زون قرار دیا جا سکتا ہے۔ لوگوں کو اس امر کی تلاش کیلئے خطرے کی نشاندہی کرنے والے نقشے اور دیگر معلومات پر نظر ڈالنی چاہیے کہ مٹی کے تودے گرنے کا خطرہ ہے یا نہیں۔

یہ معلومات 21 جون تک کی ہیں۔



سیریز: طوفانی بارشوں کے سانحات کے خلاف تیاری

8 جولائی، 2021

سیریز: طوفانی بارشوں کے سانحات کے خلاف تیاری ۔ 1

جاپان میں رہائش پذیر غیر ملکیوں کے لیے اہم معلوماتی رپورٹ۔ جاپان میں سال کے اس حصے میں طوفانی بارشیں کثرت سے ہوتی ہیں۔ شدید بارش میں خود کو محفوظ رکھنے کے طریقہ کار سے متعلق اس سیریز کی آج پہلی قسط پیش کی جا رہی ہے۔

آج کی اس رپورٹ میں اُن باتوں پر توجہ دی جا رہی ہے جنکا انخلاء کرتے وقت خیال رکھنا ضروری ہے۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ شدید بارش میں انخلا کرتے وقت پتلون جیسے کپڑے پہنے جائیں جن میں ہلنے جلنے میں آسانی رہے۔ زخمی ہونے سے محفوظ رہنے کے لیے گرمیوں میں بھی لمبی آستین والی قمیض اور پتلون پہنیں۔ سنیکر یا جوگر یعنی ربڑ کے تلے والے ہلکے جوتے پہنیں، جن کے آپ عادی ہوں۔ پانی اندر جانے کی صورت میں بوٹ بھاری ہو جائیں گے اور چلنا مشکل ہو جائے گا، اس لیے بوٹ نہ پہنیں۔ چپل یا اسی قسم کے آسانی سے اتر جانے دوسرے جوتے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان سے بھی اجتناب کریں۔ ساتھ لے جانے والے تھیلے میں کم سے کم اور اشد ضروری اشیاء ہی رکھیں اور جہاں تک ممکن ہو تھیلے کو ہلکا پھلکا رکھیں۔ بیک پیک یعنی پشت پر لٹک سکنے والا تھیلا استعمال کرنے کی کوشش کریں تاکہ آپ کے ہاتھوں میں کچھ نہ ہو اور آپ کے گرنے کا خطرہ کم ہو جائے۔ چھتری استعمال کرنے کے بجائے برساتی پہننے سے بھی آپ زیادہ محفوظ رہیں گے۔

طوفانی بارشوں میں آپ کے اردگرد علاقے کی صورتحال مخدوش ہونے سے قبل انخلا کرنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ دریا میں سیلاب آنے کی صورت میں گاڑیاں بھی آناً فاناً پانی کے ریلے میں بہہ سکتی ہیں۔ مقامی بلدیاتی حکومت کی جانب سے انخلا کی ہدایت جاری ہونے کی صورت میں فوراً انخلا شروع کرنا چاہیے۔ معذور افراد یا نقل و حرکت کرنے میں معمول سے زیادہ وقت صرف کرنے والے افراد کو معمر یا دیگر افراد کے انخلا کے لیے مقامی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق انخلا کرنا چاہیے۔

یہ معلومات 5 جولائی تک کی ہیں۔ یہ این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائیٹ اور این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائیٹس پر دستیاب ہیں۔



سیریز: طوفانی بارشوں کے سانحات کے خلاف تیاری ۔ 2

جاپان میں رہائش پذیر غیر ملکیوں کے لیے اہم معلوماتی رپورٹ۔ جاپان میں سال کے اس حصے میں طوفانی بارشیں کثرت سے ہوتی ہیں۔ شدید بارش میں خود کو محفوظ رکھنے کے طریقہ کار سے متعلق اس سیریز کی آج دوسری قسط پیش کی جا رہی ہے۔

آج ہم آپ کو انخلا کرتے وقت اختیار کی جانے والی احتیاطی تدابیر کے بارے میں مزید مشورے دیں گے۔

ممکن ہو تو اکیلے انخلا مت کیجیے۔ کم سے کم دو افراد یا گروپوں کی شکل میں انخلا کیجئے۔ زیر آب آنے والی سڑکوں یا علاقوں سے اجتناب کیجئے۔ پانی کی گہرائی 50 سینٹی میٹر یعنی بالغ فرد کے گھٹنوں کے برابر یا اس سے بھی زیادہ ہونے کی صورت میں، پانی کی دباؤ کی وجہ سے بالغ فرد کے لیے بھی چلنا مشکل ہو سکتا ہے۔ بہتے ہوئے سیلابی پانی میں چلنے کی صورت میں، کم گہرے پانی میں بھی انسان آسانی سے لڑکھڑا کر گر سکتا ہے اور لہروں میں بہہ سکتا ہے۔

زیر آب سڑکوں پر دیگر خطرات ہوتے ہیں۔ راستے میں آنے والی رکاوٹوں کا پانی میں ڈوبے ہونے کی وجہ سے نظر آنا مشکل ہوتا ہے، لہذا آٹھوکر کھا کر گرنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ ایسے گٹر، نکاسی آب کی نالی یا دیکھ بھال کے لیے بنائے گئے مین ہول میں بھی گرنے کا خطرہ ہوتا ہے جو کسی وجہ سے ڈھکن کھو چکے ہوں۔

کسی زیر آب مقام سے گزرنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہونے کی صورت میں، گہرے پانی اور پانی کے تیز بہاؤ میں جانے سے بچیں اور چھتری یا کسی لمبی چھڑی کی مدد سے ٹٹول کر راستے میں آنے والی رکاوٹوں کا پتہ چلانے کی کوشش کریں۔

یہ معلومات 6 جولائی تک کی ہیں اور این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائٹ اور این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائٹس پر دستیاب ہیں۔



سیریز: طوفانی بارشوں کے سانحات کے خلاف تیاری – 3

جاپان میں رہائش پذیر غیر ملکیوں کے لیے اہم معلوماتی رپورٹ۔ جاپان میں سال کے اس حصے میں طوفانی بارشیں کثرت سے ہوتی ہیں ۔ شدید بارش میں خود کو محفوظ رکھنے کے طریقہ کار سے متعلق اس سیریز کی آج تیسری قسط میں ہماری توجہ اس بات پر ہو گی کہ کار کے ذریعے انخلا کرتے وقت ہمیں کن چیزوں کا دھیان رکھنا ہے۔

لوگوں کو کبھی یہ فرض نہیں کر لینا چاہیے کہ کار کے ذریعے انخلا کرنا محفوظ ہے۔ سنہ 2019 میں سمندری طوفان ہاگیبِس کے دوران، گھر سے باہر ہلاک ہونے والوں میں سے چالیس فیصد وہ تھے جو کار میں انخلا کر رہے تھے۔ ان میں سے کچھ تو اپنی کار سمیت بہہ گئے اور باقی اُن مقامات سے نیچے گر گئے جہاں سڑک بیٹھ گئی تھی یا منہدم ہو گئی تھی۔ اگر بارش اور ہوا کی شدت میں تیزی آ رہی ہو تو گھر واپس لوٹنے کی کوشش میں، خطرات مول لیتے ہوئے، کار میں باہر نکلنے سے گریز کریں۔ دریا کے کنارے اور چاول کے دھانوں کے قریب بنی ہوئی سڑکوں پر سفر کرنے سے اجتناب کریں۔

زیرِ آب سڑکیں کئی طرح کے خطرات کا باعث ہوتی ہیں۔ چونکہ سڑک کے کناروں کا ادراک مشکل ہو جاتا ہے اس لیے لوگ اکثر لڑکھڑاتے اور نیچے گر پڑتے ہیں۔ زیر آب سڑکوں کے ٹوٹ پھوٹ جانے یا بیٹھ جانے کا بھی خطرہ ہوتا ہے۔ ماضی کے سانحات میں بعض ہلاک شدگان، صورت حال سے بے خبری میں ان منہدم سڑکوں سے گر کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ چاہے آپ کسی سڑک کو باقاعدگی سے استعمال کرتے آئے ہوں، تب بھی ہر طرح کے خطرناک علاقے کا بغور جائزہ ضرور لیجیے۔

یہ معلومات 7 جولائی تک کی ہیں۔ یہ این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائیٹ اور این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائیٹس پر دستیاب ہیں۔



سیریز: طوفانی بارشوں کے سانحات کے خلاف تیاری ۔ 4

جاپان میں رہائش پذیر غیر ملکیوں کے لیے اہم معلوماتی رپورٹ۔ جاپان میں سال کے اس حصے میں طوفانی بارشیں کثرت سے ہوتی ہیں۔ شدید بارش میں خود کو محفوظ رکھنے کے طریقہ کار سے متعلق اس سیریز کی آج چوتھی قسط پیش کی جا رہی ہے۔

گزشتہ قسط کا سلسلہ آگے بڑھاتے ہوئے، آج ہم اس امر پر توجہ مرکوز کریں گے کہ گاڑیاں استعمال کرتے وقت بحفاظت انخلاء کس طرح کیا جائے۔

سیلاب زدہ سڑکوں پر گاڑی چلانا خطرناک ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ سڑک پر کھڑا پانی کم گہرا دکھائی دے لیکن امکان یہی ہے کہ اچھا خاصا پانی جمع ہو چکا ہو۔

سیلاب کا پانی گاڑیوں کو بہا لے جا سکتا ہے یا اس سے گاڑیاں ڈوب اور پھنس سکتی ہیں۔

سیلابی سڑکوں پر سفر کرنے میں سڑکوں پر گڑھے والی جگہوں، سڑک کے کنارے کھائی یا آبپاشی کی نہروں میں گر جانے کا خطرہ ہوتا ہے کیونکہ جب یہ جگہیں زیرِ آب ہوں تو ان کا نظر آنا مشکل ہوتا ہے۔

براہِ مہربانی سیلاب زدہ سڑکیں استعمال کرنے کے بجائے کوئی متبادل راستہ اختیار کرنے کی کوشش کیجیے۔

اگر انخلاء کرنے کیلئے سیلاب زدہ سڑکوں پر سفر کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ ہو تو اگلی گاڑی سے معقول فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے گاڑی آہستہ آہستہ چلائیے۔

یہ اس لیے کہ اگلی گاڑی سے پانی کے زوردار چھینٹوں سے آپ کو دیکھنے میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔ اگر اگلی گاڑی اچانک رُک جائے تو آپ کی گاڑی اُس سے ٹکرا بھی سکتی ہے۔

گاڑی تیز رفتاری سے چلانے سے پانی میں زیادہ تلاطم پیدہ ہوتا ہے جس سے انجن گیلا ہو سکتا ہے اور مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

یہ معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائیٹ اور این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائیٹس پر دستیاب ہیں۔



سیریز: طوفانی بارشوں کے سانحات کے خلاف تیاری ۔ 5

جاپان میں رہائش پذیر غیر ملکیوں کے لیے اہم معلوماتی رپورٹ۔ جاپان میں سال کے اس حصے میں طوفانی بارشیں کثرت سے ہوتی ہیں۔ شدید بارش میں خود کو محفوظ رکھنے کے طریقہ کار سے متعلق اس سیریز کی آج پانچویں قسط پیش کی جا رہی ہے۔

گزشتہ قسط کا سلسلہ آگے بڑھاتے ہوئے، آج بھی ہم اس امر پر توجہ مرکوز کریں گے کہ گاڑیاں استعمال کرتے وقت بحفاظت انخلاء کس طرح کیا جائے۔ تاہم لوگوں کے لیے مشورہ ہے کہ اگر کوئی متبادل ذریعہ موجود ہو تو گاڑی وغیرہ کے استعمال سے اجتناب کریں۔

انخلاء کے دوران آپ کی گاڑی پانی میں غرق ہو سکتی ہے۔ برائے کرم یہ یاد رکھیں کہ لگ بھگ 30 سینٹی میٹر گہرے پانی میں گاڑی کا انجن جام ہو جائے گا اور 50 سینٹی میٹر یا اس سے زیادہ گہرے پانی میں پھنسنے کی صورت میں کار ڈولنا شروع ہو جائے گی اور پانی اُسے بہا لے جائے گا۔

مسافر گاڑی ہو تو اُسے دروازوں کے نیچے تک یا پھر کار کے فرش کے نیچے تک سے زیادہ نہیں ڈوبنا چاہیے۔ تاہم برائے مہربانی یہ ضرور یاد رکھیں کہ پانی زیادہ گہرا نہ ہو تو بھی اسکا تیز بہاؤ گاڑی کو بہا لے جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر دریا سے بہہ کر آنے والا پانی جو بڑی آسانی سے گاڑی کو لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

جب کوئی گاڑی ڈوبتی ہے تو پانی کے دباؤ کی وجہ سے دروازے کھولنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بڑے دروازوں پر پانی کا دباؤ نسبتاً زیادہ ہو گا، اس کا مطلب ہے کہ بڑے دروازوں یا سلائڈنگ دروازوں والی گاڑیوں سے بچ نکلنا زیادہ مشکل ہو گا۔

گاڑی کی کھڑکیاں توڑنے کیلیے اسکے اندر کوئی خصوصی اوزار رکھنا بھی اچھا ہو گا۔ جب آپ کے پاس ایسا کوئی اوزار نہ ہو تو آپ گاڑی کی نشست پر سر رکھنے کے لیے بنے ہیڈریسٹ کو نکال کر اس کو اوپر نیچے کرنے والی دھاتی سلاخیں استعمال کر سکتے ہیں۔ ایک سلاخ کو گاڑی کے دروازے اور کھڑکی کے نیچے والے حصے کے درمیان بنی درز کے اندر زور سے گھسائیں اور اس کے بعد کھڑکی توڑنے کے لیے ہیڈریسٹ کو اپنی جانب کھینچیں۔

بدترین صورتحال وہ ہو گی جب آپ خود کو زیر آب گاڑی کے اندر پائیں، برائے کرم اس وقت یہ ذہن میں رکھیں کہ گاڑی کے اندر کافی مقدار میں پانی آنے اور گاڑی کے اندر اور باہر پانی کا دباؤ یکساں ہونے پر آپ گاڑی کے دروازے کھول سکیں گے۔

یہ معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائیٹ اور این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائیٹس پر دستیاب ہیں۔



سیریز: طوفانی بارشوں کے سانحات کے خلاف تیاری ۔ 6

جاپان میں رہائش پذیر غیر ملکیوں کے لیے اہم معلوماتی رپورٹ۔ جاپان میں سال کے اس حصے میں طوفانی بارشیں کثرت سے ہوتی ہیں۔ شدید بارش میں خود کو محفوظ رکھنے کے طریقہ کار سے متعلق اس سیریز کی آج چھٹی قسط پیش کی جا رہی ہے۔

آج ہم آپ کو گاڑیوں سے انخلاء کے بارے میں مزید مشورے دینا چاہتے ہیں۔ریلوے لائن یا کسی شاہراہ وغیرہ کے نیچے بنے ’انڈر پاس‘ یا گزرگاہ سے گزرتے وقت آپ کو ضرور محتاط رہنا چاہئے۔

یہ انڈر پاس آس پاس کے علاقے سے نشیبی سطح پر ہوتے ہیں اور بارش ہونے پر تھوڑے سے وقت میں پانی وہاں جمع ہو سکتا ہے۔ ان میں جاں لیوا حادثات اکثر و بیشتر اس وقت پیش آئے ہیں، جب گزرنے والے لوگ یہ محسوس کیے بغیر انڈر پاس میں داخل ہو گئے کہ ان میں سیلاب آیا ہوا ہے۔ لہذا انخلاء کرتے وقت زیادہ سے زیادہ ممکنہ حد تک انڈر پاس سے گریز کریں۔ اگر آپ کو ضرور ان کے اندر سے گاڑی چلا کر جانا ہے، یعنی ان کے اندر سے گزرنے کے سوا چارہ نہیں تو یہ معلوم کرنےکے لئے جائزہ لیں کہ وہاں پانی موجود ہے یا نہیں اوراحتیاط سے آگے بڑھیں۔

یہ معلومات این ایچ کے ورلڈ جاپان کی ویب سائیٹ اور این ایچ کے کی سوشل میڈیا سائیٹس پر دستیاب ہیں۔